فرسودہ نظام تعلیم سے چھٹکارا کیسے؟

  • 266 Views
  • June 18, 2018 10:20 pm PST

pag1-image

عامر ریاض

ہمارے ملک میں درجن بھر سے زائدتعلیمی نظام چلائے جا رہے ہیں اور ان نظاموں میں بہت زیادہ فرق ہونے کی وجہ سے گزشتہ 35 سالوں میں تعلیم کا حلیہ نہ صرف بگڑ چکا ہے بلکہ اس کی روح بھی مسخ ہو چکی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ اچھی تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات اسی پاکستانی کا حق ہے جو زیادہ پیسے خرچ سکتا ہے۔

کہیں پیلے سکول ہیں، کہیں چاردیواریوں،ٹوائلٹ اور بینچوں کے بغیر سکول ہیں تو کہیں ڈالروں میں فیسیں لینے والے ائیرکنڈیشنڈسکول۔ ان میں ملک کے طول و عرض میں پھیلےمختلف اقسام کے مدارس کو بھی شامل کر لیں تو ہمارے تعلیمی نظام کی پوری تصویر سامنے آتی ہے جو کہیں بے رنگ ہے، تو کہیں اس پر کروفر کے بدنما داغ ‘تعلیم سب کے لیے’ جیسے دعوؤں کا منہ چڑا رہے ہیں تو کہیں صاف ستھرے یونیفارم میں چٹ پٹ انگریزی بولتے بچے، جو سوچتے بھی انگریزی میں ہیں اور شاید خواب بھی انگریزی میں دیکھتے ہیں۔

ایسے سکول بھی ہیں جہاں مادری زبانیں ہی نہیں بلکہ ُاردو بولنا بھی منع ہے۔ تعلیمی نظاموں میں یہ فرق اس وقت زیادہ واضح ہوا جب 1970 کی دہائی کی اوائل میں تعلیمی انجمنوں کے تحت چلنے والے سکولوں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا اور پھر اسی دہائی کے آواخر میں جنرل ضیاء الحق نے سیاسی فوائد کے لیے ریگولیشن کے بغیر ملک بھر میں نجی تعلیم کوپنپنے کی راہ دکھائی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا تعلیمی ڈھانچہ سیاسی نظریات کے تابع

ریگولیشن کے بغیر کی جانے والی مادر پدر تعلیمی نجکاری کا جن بوتل سے نکلا تو اس نے پاکستان کا چہرہ ہی گہنا ڈالا۔ علم و فکر کی چھٹی ہوئی اور پیسہ، عہدہ ہی قدرِ واحد ٹھہرا۔ ہمارے تعلیمی حالات اس قدر دگرگوں ہو چکے ہیں کہ آج ہر دردِ دل رکھنے والا پاکستانی اس بارے پریشان نظر آتا ہے۔ کچھ اعلیٰ اذہان اس کا حل نا قابلِ عمل ”یکساں نظام ِتعلیم” میں ڈھونڈنے میں غلطاں ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہےکہ نجی تعلیمی اداروں کو یا تو یکسر ختم کردیا جائےیا پھر ان تعلیمی اداروں میں سرکاری نصاب پڑھانے کو لازم قرار دے دیا جائے ۔ ایسے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم کو قومیانے کے بعد تعلیمی معیار میں ہر سطح پر کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ اس کی بڑی وجہ تعلیمی بیوروکریسی کے حجم میں ہوشربا اضافہ اور تعلیمی بصیرت کا فقدان تھا۔

گیارہ سال پہلے مجھے ایک قومی تعلیمی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جہاں یہ تجویز گردش کر رہی تھی کہ ایساقانون بنا دیا جائے جس کے تحت ہر سطح کے سرکاری ملازمین اور صوبائی و مرکزی اسمبلیوں کے اراکین کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی پڑھائیں۔

جانیئے؛ لارڈ میکالے کا مکمل تعلیمی منصوبہ

بظاہر یہ ایک مقبول تجویز تھی اور اس تجویز کی حمایت کرنے والوں کو یقین تھا کہ اس قانون پر عملدرآمد سے سرکاری تعلیم خودبخود راہِ راست پر آجائے گی کیونکہ پالیسی سازوں کے بچے بھی سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوں گے۔ مجھے یہ خدشہ تھا کہ اس تجویز پر عمل ہونے کے بعد سرکاری تعلیمی ادارے تو ٹھیک نہیں ہوں گے البتہ جو چند سر پھرے سرکاری ملازمتوں اور اسمبلیوں میں نظر آتے ہیں وہ بھی اسمبلیوں کی رکنیت اور نوکری سے جان چھڑا لیں گے۔ یہ تجویز بوجوہ منظور نہ ہو سکی مگرآج بھی یہ تجویز اسلام آباد کی غلام گردشوں میں محورقص ہے۔

ان سب باتوں کو یہاں لکھنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں اور آنے والے عام انتخابات میں تعلیم کو ہر سیاسی جماعت کے منشور میں نمایاں مقام بھی حاصل ہے مگر تعلیم کی پالیسی سازی میں بنیادی غلطیاں بدستور موجود ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ مختلف بلکہ متضاد تعلیمی نظاموں کی موجودگی میں قابلِ عمل اور زمینی حقائق سےمطابقت رکھنے والی پالیسی بنانا بھی ہے۔

اگر ہم چند زمینی حقائق کوسامنے رکھیں تو پالیسی بنانے میں آسانی ہو سکتی ہیں۔

انگریز کے برصغیر آنے سے قبل بھی ہمارے ہاں مختلف نظام ِتعلیم کام کرتے تھے جن میں مدارس، گردواروں اور خانقاہوں سے جڑے سکول بھی تھے، سرکاری سکول بھی، کمرشل سکول بھی اور گھریلو سکول بھی تھے۔ تعلیم کو خدمت سمجھا جاتا تھا نہ کہ کاروبار۔ حکومت مختلف تعلیمی اداروں کی مدد بھی کرتی تھی مگر نصاب بنانے میں یہ تمام ادارے خودمختار تھے۔

ضرور پڑھیں؛ پاکستان کا نظام تعلیم اور ذہنی آزادی کا تصور

برٹش دور میں نئے سکول سسٹم کا آغاز ہوا اور سرکاری تعلیمی ادارے (سکول، کالج ، یونیورسٹیاں) بننے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی انجمنوں نے بھی سکول وکالج بنانے شروع کیے۔ 1919 کے ایکٹ کے تحت صوبائی حکومتوں کو نئے سکول بنانے کے اختیارات ملے تو دھڑا دھڑ نئے سکول کھلنے لگے اور اس حوالے سے پورے برٹش انڈیا میں پنجاب سرفہرست تھا جس کا ریکارڈانڈین ایجوکیشن رجسٹر میں موجود ہے۔

تعلیمی انجمنیں مخیر حضرات کےتعاون سے چلتی تھیں اوریہ انجمنیں کاروبار یا مناقع کے لیے تعلیم کو استعمال نہیں کرتی تھیں البتہ کاروباری طریقوں کو اپنا کر ان تعلیمی اداروں کو فائدہ ضرور پہنچایا جاتا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد کراچی اور مشرقی بنگال میں سیاسی وجوہات کی بناء پر نجی تعلیمی نظام کی داغ بیل ڈالی گئی۔سکول ضلعی حکومتوں کے ماتحت تھے، نصابی کتب دانشوروں اورماہرینِ تعلیم سے لکھوائی جاتی تھیں، صوبائی حکومتوں کے متعلقہ ادارے اس کی منظوری دیتے تھے اور پبلشرز یہ کتب مارکیٹ میں مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے کے پابند تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب ملک میں سکولوں اور کالجوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی۔

پاکستان بننے کے بعد سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا تو تعلیمی بیوروکریسی بھی بننے لگی۔صدرایوب کے دورِ حکومت میں سکولوں کا انتظام اضلاع سے لے کر صوبوں کے حوالے کردیا گیا(یاد رہے اس وقت ملک میں صرف دو صوبے تھے) جبکہ ٹیکسٹ بک بورڈزتشکیل دے کر نصابی کتب کی تیاری، چھپائی اور تقسیم کا کام ان بورڈز کو دے دیا گیا ۔

جانیئے؛ انقلاب روس کے 100 سال کا تعلیمی خاکہ

تعلیمی بیوروکریسی نے پیر پھیلائے تو تعلیمی انجمنوں نے مزاحمت کی ۔ ان تعلیمی انجمنوں میں سندھ مدرسہ السلام، انجمن حمایت ِاسلام، انجمن اسلامیہ، مشنری ادارے اور ہندو ٹرسٹ(مشرقی پاکستان) جیسے ادارے شامل تھےجو کہ تعلیمی شعبے کا 80 سالہ تجربہ رکھتیں تھے۔

ان تعلیمی انجمنوں پر پہلا وار 1969 میں کیا گیا جب یحییٰ خان حکومت کے وزیر ِتعلیم ائیر مارشل نور خان نے تعلیمی پالیسی پیش کی۔ اس پالیسی میں مشنری اداروں کو پاکستانی تعلیمی نظام کیلئے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے ان اداروں کو ختم کرنے یا قومیانے کی سفارش کی گئی ۔ حملہ تعلیمی انجمنوں پر کیا گیا جس کے لئے فارن مشنری اداروں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ وار نظریہ پاکستان کے نام پر کیا گیا۔

دسویں جماعت تک اسلامیات کو لازمی مضمون قرار دینے والی اس پالیسی میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں تھا کہ غیر مسلم پاکستانیوں کو ان کے عقائد کے مطابق کیا پڑھایا جائے گا۔ اس سے قبل آنے والی چاروں تعلیمی قومی دستاویزات میں غیر مسلم پاکستانیوں کو ان کے عقائد کے مطابق مذہبی تعلیم دینے کا عزم کیا گیا تھا۔

یاد رہے، 1969 میں پاکستان دو لخت نہیں ہوا تھا اور پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کا تناسب 22 فیصدتھا۔ دسمبر 1971 میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد عوام کا مورال بلند کرنے کے لیے بڑی صنعتوں، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور تعلیم کو قومیانے کا فیصلہ کیا گیاجس کے تعلیم سمیت مختلف شعبہ جات پر مہلک اثرات مرتب ہوئے جس کی ایک بڑی مثال 1972 کی مختصر تعلیمی پالیسی میں ہے جس کے تحت دو لاکھ پچاس ہزار اساتذہ کی نئی اسامیاں پیدا ہوئیں ۔

ضیاء الحق کے دور میں تعلیم کے شعبے میں مزید ابتری دیکھنے میں آئی اور نجی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی جس سے بغیر ریگولیشن نجی تعلیم کا آغاز ہوااورخدمت کی بجائے منافع کو اولیت دی جانے لگی۔ کوٹھیوں اور پلازوں میں سکول کالج کھلنے لگے جس کے لیے سکول کی تعریف میں تبدیلی کرنا پڑی۔

ہر طبقہ کے لیے اس کی مالی حیثیت کے مطابق الگ الگ تعلیمی ادارے بن گئے جن میں پچاس سے دس ہزار روپے تک فیس لینے والے ادارے شامل تھے۔ نئے نجی تعلیمی ادارے بنتے رہے اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار گرتا رہا۔ نجی تعلیم کی بات کرتے ہوئے ہمارا دھیان اشرافیہ کے لیے بنا ئے جانے والے سکولوں کی طرف چلا جاتا ہے حالانکہ نجی تعلیم کے شعبےمیں اشرافیہ کے تعلیمی اداروں اور ان میں پڑھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

پرائیویٹ شعبےمیں کم فیس والےغیر معیاری نجی تعلیمی اداروں کی اکثریت ہے جو گلی،محلوں،قصبوں اور دیہاتوں میں بنے ہوئے ہیں۔ نجی تعلیم کا حجم تیزی سے بڑھا اور اب دعوی ٰکیا جاتا ہے کہ یہ 40 سے 50 فیصد کے درمیان ہے۔ بڑے شہروں،خصوصا ًلاہور، کراچی اور اسلام آباد میں تو اس کا حجم 70 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

لازمی پڑھیں؛ پاکستان نالج اکانومی کیوں نہیں بن سکتا؟

یہ پرائیویٹ سکول اب شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں بھی پھیل چکے ہیں۔ دوسری طرف سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہت زیادہ گر چکا ہے۔ سرکاری تعلیم کے حالات اس قدر خراب ہیں کہ اساتذہ کی تنخواہ، سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور سپورٹ سٹاف کی تعداد بڑھانے کے باوجود تعلیمی معیار جوں کا توں ہے ۔

ان زمینی حقائق کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یکساں نظام تعلیم ایک گمراہ کن نعرہ کیوں ہے۔ بہت سی سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے اس نعرے کو استعمال کرتی رہی ہیں لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لینے سے صورتحا ل واضح ہو جاتی ہے۔

اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسی چومکھی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں معیار تعلیم کو فوقیت دی جائے۔ تعلیم کے مختلف درجوں کو سامنے رکھ کر کم سے کم تعلیمی معیارمقررکیا جائے جوکہ سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کیلئے یکساں ہو ۔

پرائمری، مڈل اور میٹرک یا او لیول کے اساتذہ کا الگ الگ معیار مقرر کیا جائے اور اساتذہ کی ترقی کا واحد معیار مدت ملازمت کے ساتھ ساتھ تحقیق و تربیت بھی ہو۔ یکساں معیار تعلیم کے ذریعے ہی معاشرے میں پائی جانے والی تفاوت اور عدم مساوات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


error: Content is protected !!