عظیم اسکالر کنفیوشس کی مختصر کہانی

  • 347 Views
  • May 26, 2018 8:13 pm PST

pag1-image

فاروق احمد انصاری

کنفیوشس نے کہا تھا کہ ’’اُن کی فکر مت کرو جو آپ کی قدر نہیں کرتے، اُن کی فکر کرو جو دوسروں کی قدر نہیں کرتے۔‘‘اور ہماری ساری زندگی انہی کی فکر میں بسر ہوجاتی ہے جو ہماری قدر نہیں کرتے اور اسی تگ و دو میں اپنے قیمتی وقت کی قدر نہیں کرپاتے ، اور جو طلبا وقت کی قدر نہ کریں ، وہ اپنے تعلیمی نتائج کو دیکھ کر فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

چین کے ایک اہم مذہب کنفیوشس ازم کا بانی کنفیوشس 551 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ وہ ایک فلسفی اور عالم تھا۔ کنفیوشس بچپن ہی سے مالی سختیوں اور نفسیاتی خلا کا شکار رہا۔ 15 سال کی عمر میں اسے سچ اور حق تلاش کرنے کی جستجو ہوئی اور وہ اپنا سارا وقت علم حاصل کرنے میں گزارنے لگا۔

بعد ازاں وہ چین کی ایک معروف جامعہ سے منسلک ہوگیا۔کنفیوشس نے 21 سال کی عمر میں ان نوجوانوں کے لیے ایک درسگاہ کھولی جو اچھی حکومت اور اچھے کردار کے متعلق کچھ سیکھنا چاہتے تھے ،وہ اس درسگاہ کے قیام کے لیے شہنشاہ کے پایہ تخت میں پہنچا تو تائو مذہب کے بانی لائوزے سے اس کی ملاقات ہوئی۔

سنتالیس سال کی عمر میں اسے اپنے وطن میں ایک سیاسی عہدہ دیا گیا جس سے اس کو حکومت کے متعلق اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کا موقع مل گیا۔ اس کے نتائج اس قدر شاندار نکلے کہ آس پاس کی ریاستیں خوف زدہ ہو گئیں اور اس کے خلاف سازشیں کرنے لگیں۔ چنانچہ وہ تیرہ سال کے لیے جلا وطن کر دیا گیا۔ 68سال کی عمر میں کنفیوشس جلا وطنی سے واپس آیا اور پھر آخر دم تک (479 ق م) اپنی قوم کے تاریخی مواد، نظموں، عوامی کہانیوں اور معاشرتی رسموں کو مرتب کرنے میں مصروف رہا۔

کنفیوشس کے شاگرد اسے کنگ فوزے یعنی استاد کنگ کہتے تھے۔ کنفیوشس نے 3 ہزار سے زائد افراد کو اپنا شاگرد بنایا۔ ان میں سے 70 سے زائد طالب علموں نے بطور دانشور شہرت پائی۔ اس عظیم مفکر نے اخلاقیات اور تعلیم پر زور دیا۔ اس نے کئی کتابیں لکھیں جن میں سب سے زیادہ شہرت ’گلدستہ تحریر‘ کو حاصل ہوئی۔

کنفیوشس کے اخلاقی افکار کی پیروی کرنے والے مختلف ممالک میں موجود ہیں جن میں چین، تائیوان، ہانگ کانگ، مکاؤ، کوریا، جاپان، سنگاپور اور ویتنام شامل ہیں۔

کنفیوشس کی تصانیف

کنفیوشس کی تصانیف میں سب سے معروف اُن کے اقوال زریں پر مشتمل دستاویز ہے، جسے چینی زبان میں ’lunyu‘ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ یہ کتاب کنفیوشس کے شاگردوں نے اُن کی وفات کے بعد قریباً دوسری صدی قبل مسیح میں مرتب کی، تاہم اس کے علاوہ بھی کنفیوشس نے عصری اور ملازمتی ضرورتوں کے تحت چند تحریریں چھوڑیں۔

لیُو کے 12 ڈیوکس کا تاریخی حال بھی ایک کتاب ’بہار اور خزاں کی دستاویزات‘ کی صورت میں درج کیا۔ اس کے علاوہ زندگی کے آخری برسوں میں، جو اُنھوں نے اپنے شہر میں تعلیم و تدریس میں گزارے، اُنھوں نے چینی کلاسیکی ادب کی کتابیں ’نغمات کی کتاب‘اور ’دستاویزات کا مجموعہ‘ کی ترتیب ِنو کا کام کیا۔

کنفیوشس کافلسفہ تعلیم

کنفیوشس کا فلسفہ تعلیم 6 فنون پر مشتمل ہے: تیر اندازی، خوش نویسی، موسیقی، رسوم، حساب داری اور بگھی بانی جبکہ تعلیم یافتہ آدمی سے کنفیوشس کی مراد ایک ایسے انسان کی ہے، جو دوسروں کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کی تعلیم دے سکے، اسی سے جڑا ہوا اُن کا سیاسی فلسفہ ہے، جو احساس ذمہ داری پر قائم ہے۔ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے، جو کردار کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں جبکہ کردار روایت میں موجود اقدار کی پیروی سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اچھی حکومت کے بارے میں وہ کہتے ہیں ’’اچھی حکومت اس نقطے پر قائم ہے کہ حکمران ایک حکمران کے طورپر کام کرے، وزیر وزیر کے طورپر، باپ باپ کے طور پر اور بیٹا بیٹے کے طورپر‘‘۔

کنفیوشس کہتاہے

جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتاہے پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے۔مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے۔ ہمت سے اس کامقابلہ کرنا چاہئے۔ ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔ احساس کیا ہے؟ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا۔منصف اور عادل کو اللہ اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا.آدمی وہ ہے جس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ورنہ پتھر ہے۔

کنفیوشس کے افکار

اگر تم اپنا سفر روکتے نہیں، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کتنا آہستہ چلتے ہو۔

اس شخص سے کبھی بھی دوستی نہ کرو جو تم سے زیادہ اچھا نہ ہو۔

جب تم غصہ میں آؤ، تو اس کے بعد کے نتائج کے بارے میں سوچو۔

اگر تم یہ جان جاؤ کہ تم اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتے، تب بھی تم اپنا مقصد تبدیل مت کرو، اپنے اعمال تبدیل کرو۔

اگر تم نے نفرت کی، تو تم ہار گئے۔

زندگی میں جو بھی کرو، اسے پورے شرح صدر اور دلچسپی کے ساتھ کرو۔

صرف ان لوگوں کی رہنمائی کرو، جو اپنی کم علمی کے بارے میں جانتے ہوں اور اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہوں۔

چھوٹی چیزوں پر اسراف کرنا بڑے نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔

اگر لوگ تمہارے پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تم آگے بڑھ رہے ہو۔

چیزوں کا خاموشی سے مشاہدہ اور مطالعہ کرو۔ چاہے کتنی ہی تعلیم حاصل کرلو، اشتیاق اور لگن کو برقرار رکھو۔

ہر چیز میں ایک خوبصورتی ہوتی ہے، لیکن اسے ہر شخص نہیں دیکھ پاتا۔

عظمت یہ نہیں کہ کوئی انسان کبھی نہ گرے، بلکہ کئی بار گر کر دوبارہ اٹھنا عظمت ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


error: Content is protected !!