تیرہ یورپی یونیورسٹیوں کا دو ارب ڈالرزکا مشترکہ فوڈ پراجیکٹ

  • 372 Views
  • دسمبر 17, 2016 6:40 بجے PST

pag1-image
فوڈ فار فیوچر منصوبے میں انوویشن، ٹیکنالوجی اور پیداوار میں اضافہ پر تحقیق ہوگی/فائل فوٹو

ویب ڈیسک

فوڈ پر ریسرچ کے لیے یورپ سمیت تیرہ ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کا معائدہ ہوگیا ہے۔ فوڈ فار فیوچر نامی پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے یہ فیصلہ یورپین انسٹیٹیوٹ آف انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی (ای آئی ٹی) کی جانب سے کیا گیا ہے۔

پین یورپین پارٹنر شپ سے یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان فوڈ کی کوالٹی اور اس کی پیداوار میں ٹیکنالوجی کے استعمال بڑھانے کے نئے طریقے دریافت کیے جائیں گے۔

یہ معائدہ ہنگری میں یورپین یونین ہورائزن دو ہزار بیس کے تحت کیا گیا ہے۔

اس کنسورشیم کے کوارڈینیٹر اور ٹیکنیکل یونیورسٹی میونخ، جرمنی کے نائب صدر پروفیسر تھامس ہوف مین نے اس موقع پر کہا کہ اس پارٹنر شپ کے ذریعے یورپ میں فوڈ کی پیداوار میں جدت، ڈیلیوری، سروسز اور فوڈ سیفٹی میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس مںصوبے کے تحت آئندہ سات سالوں میں تیس سو پچاس سٹارٹ اپس بھی شروع کیے جائیں گے جس میں چھوٹے پیمانے پر فوڈ سے منسلک کاروبار شروع کیے جائیں گے۔

اس منصوبے پر ابتداء میں چار سو پچیس ملین امریکی ڈالرز خرچ ہوں گے تاہم منصوبے میں مزید نجی کمپنیوں کی شمولیت سے اس پراجیکٹ میں اضافہ ہوگا۔

اس منصوبے میں پچاس کمپنیاں ملکر کام کریں گی۔ تیرہ ممالک بشمول یورپ اور اسرائیل، جرمنی کی نو کمپنیاں، سوئزرلیںڈ کی سات، سپین کی چھ اور اسرائیل کی تین کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کمپنیوں میں سیمنز، اینگلو بیف، پیپسی، نیسلے جیسی بڑے ادارے بھی شامل ہیں۔

اس منصوبے میں ٹیکنیکل یونیورسٹی میونخ، جرمنی، یونیورسٹی آف ہیل سینکی، کیمبرج، کوئینز لینڈ یونیورسٹی قابل ذکر ہیں جبکہ فن لینڈ، اٹلی، پولینڈ، سپین اور جرمنی کے ریسرچ انسٹی ٹیوشنز بھی شامل ہیں۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


error: Content is protected !!